Home > Ahmadis, Islam, Pakistan, Politics, Religion > WHY THIS PUNISHMENT? یہ سزا کیوں؟

WHY THIS PUNISHMENT? یہ سزا کیوں؟

یکم جولائی2012 کے ” جنگ” میں یاسر پیرزادہ کا کالم بعنوان ” سائنس، عذاب اور قرآن” نظر سے گذرا۔جس میں انہوں نے اپنے ایک محترم بزرگ کا قول درج کیا تھا کہ ” ملک میں جو دہشت گردی اور لا قانونیت ہے وہ خدا کی نا فرمانی کا نتیجہ ہے ۔ جب تک ہم خدا سے معافی نہیں مانگیں گے یہ عذاب مسلط ر ہے گا۔” ان محترم بزرگ کی یہ بات سو فی صد درست ہے۔ جب کوئی قوم اپنے منتخب لیڈروں کے ہاتھوں بحیثیت قوم کوئی غلطی کرتی ہے تو پھر ساری قوم کو اس کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔ امید ہے کہ میری تلخ نوائی کو میری مجبوری سمجھ کر برداشت کر لیں گے۔
یہ سلسلہ آج سے تقریباً سوا سو سال قبل شروع ہوا جب قادیان کی بستی میں خرا تعالیٰ کے ایک بندہ نے یہ اعلان کیا کہ وہ خدا کی طرف سے اس زمانہ میں مسیح و مہدی بنا کر بھیجا گیا ہے۔ اہ اعلان سنتے ہی اس کے گھر والوں۔ اس کی دوستی کا دم بھرنے والوں۔ اس وقت سے پہلے اس کے خدمت اسلام کے کاموں کی علی الاعلان تعریف و توصیف کرنے والوں نے اس کی مخالفت شروع کر دی۔ لیکن وہ بندہ خدا اپنے اس دعویٰ پر قائم رہا اور اس نے تماسم اہل علم۔ اہل دانش اور نام نہاد علماء کو چیلنج پر چیلنج دیا کہ اگر میں اپنے دعویٰ میں غلط ہوں تو میرے مقابل پر آؤ اور پھر خدا تعالیٰ کے نشان دیکھو۔ کئی لوگ ان نشانات کو دیکھ کر اس کے دعویٰ پر ایمان لے آئے۔ اور کئی اس کی مخافت کر کے اپنے انجام کو پہنچے۔ اس بندہ خدا کے مننے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔ اور آج اس کے ماننے والے دنیا کے ہرملک میں پائے جاتے ہیں۔
پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی اس بندہ خدا کی جماعت( جس کا نام اس نے ” مسلمان فرقہ احمدیہ ” رکھا اور جسے اس کے مخالف ہمیشہ قادیانی جماعت کہہ کر پکارتے ہیں۔) کی سیاسی پیمانے پر مخالفت شروع ہو گئی۔ سیاسی جماعتوں نے اپنی مقبولیت کو بڑگھانے کے لئے ملاؤں کا سہارا لیا تو انہیں بزعم خود جماعت احمدیہ کو پاکستان میں ختم کرنے کا ایک ذریعہ ہاتھ لگتا محسوس ہوا۔ پہلے 1953 میں ممتاز دولتانہ نے ملاؤں کے ہاتھ میں کھیلتے ہوئے جماعت کے خلاف فسادات کروائے ۔ ان فسادات کے اسباب و نتائج کی تفصیل ” جسٹس منیر انکوائری رپورٹ” میں موجود ہے۔
مرکزی حکومت کی بروقت مداخلت اور فوج کی مدد کے ذریعہ ان فسادات پر قابو پا لی گیا۔ مگر ملاؤں کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ وہ بہر حال موقعہ کی تلاش میں رہے۔ او یہ موقعہ ان کوذولفقار علی بھٹو نے مہیا کر دیا۔ 1974 کے جماعت احمدیہ کے خلاف منظم فسادات کے نتیجہ میں اس وقت کی قومی اسمبلی نے بزعم خود خدا تعالیٰ کا کام اپنے ہاتھ میں لے کر احمدی کہلانے والوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ اور حکماً تمام احمدیوں کو اپنے آپ کو غیر مسلم کہنے پر مجبور کیا گیا۔جو انہیں قطعاً گوارا نہ تھا۔ کیونکہ یہ فیصلہ سراسر سیاسی تھا اوس لئے حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں زیادہ سختی نہ کی گئی اور احمدی اپنی معمول کی عبادات حسب سابق بجا لاتے رہے۔ لیکن ملا کو یہ کب منظور تھا کہ احمدی اپنے آپ کو مسلمان بھی کہتے رہیں اور نماز روزہ کی پابندی بھی بجا لاتے رہیں۔ لہٰذاانہوں نے ضیاء الحق کو اپنا آلہ کار بنایا۔ بھٹو حکومت کا تختہ الٹوایا اور جو کام بھٹو نہ کر سکا اسے ضیاء الحق کے ذریعہ کروانے کی ٹھانی۔ضیاء الحق نے 1984 میں رسوائے زمانہ قادیانی آرڈیننس نافذ کیا۔ اس کے مطابق احمیوں کے لئے اپنے آپ کو مسلمان کہنے، اذان دینے، السلام علیکم کہنے، اپنے خطوط میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھنے وغیرہ وغیرہ پر سزائیں مقرر کی گئیں۔ اس رسوائے زمانہ آرڈیننس کے نتیجہ میں امام جماعت احمدیہ کو پاکستان سے ہجرت کرنا پڑی اور اس وقت سے وہ برطانیہ میں رہائش پذیر ہو کر جماعت کی قیادت کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
ملاؤں کی تمام کوشش اور جدو جہد کے باوجود جماعت احمدیہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ بیرون پاکستان بھی تیزی سے بڑھنے لگی اور جیسا کہ میں اوپر ذکر کر آیا ہوں دنیا کے تقریباً ہر ملک میں احمدی پائے جاتے ہیں۔آپ کہہ رہے ہوں گے کہ اس ساری کہانی میں عذاب کا ذکر کہاں ہے۔ جی ہاں ذرا غور کریں تو آپ کو وہ ذکر مل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنی آخری کتاب قرآن حکیم میں فرماتا ہے
” ہم (کسی قوم پر) ہر گز وذاب نہیں بھیجتے جب تک (ان کی طرف) کوئی رسول نہ بھیج لیں” (سورۃ بنی اسرائیل آیت۱۵) محترمی! جب ایک شخص اپنے آپ کو خدا کا فرستادہ کہتا ہے اس وقت وہ فردِ واحد ہوتا ہے۔ساری دنیا اس کی مخالفت کرتی ہے۔لیکناس مخا؛فت کے باوجود لوگ اس فرستادہ کے گرد اکٹھے ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔ اور پھر وہ ایک جماعت بن جاتے ہیں۔ لیکن قرآنی ارشاد کے مطابق اس جماعت کے مخالف اس کے بڑھنے پر شعلہ فشاں ہو جاتے ہیں۔ اور غصے میں آ جاتے ہیں۔ اور ااس کو مٹابنے کی تدبیریں کرنے لگتے ہیں۔لیکن ان تدبیروں کی ناکامی کے بعد وہ اور زیادہ غصے میں آ جاتے ہیں
جب خدا تعالیٰ کے بندوں کی اس جماعت پر زمین تنگ کر دی جاتی ہے تو پھر وہ قادرو توانا ہستی جس نے اپنے رسول کو بھیجا ہوتا ہے اپنے ان کمزور اور نہتے نام لیواؤں کی مدد کو آتی ہے۔ اور پھر کبھی زلزلوں۔، کبھی سیلابوں، کبھی ڈینگی بخار اور کبھی خود کُش حملوں کی صورت میں اپنے جلال اور ہیبت کا اظہار کرتی ہے۔
پاکستان ان سزاؤں کا اس لئے مورد بن رہا ہے کہ جماعت احمدیہ کا مرکزاس ملک میں ہے جس کا نام ” ربوہ ” ہے۔ مگر ملانوں نے پنجاب اسمبلی کے ذریعہ سرکاری طور پر اس کا نام تبدیل کر کے ” چناب نگر” رکھ دیا ہے کیونکہ ربوہ کا لفظ قرآن مجید میں آیا ہے اور کیونک قرآن مجید ان ملانوں کی ملکیت ہے اس لئے اس میں آنے والے کسی بھی لفظ کو احمدی استعمال نہیں کر سکتے۔ حتیٰ کہ یہ کوشش بھی کی گئی ہے کہ احمدیوں کو اپنے نام تبدیل کر ن چاہئیں کیونکہ ان کے نام مسلمانوں کے ناموں کی طرح ہیں اور اسطرح مسلمانوں کو دھوکہ لگتا ہے کہ یہ بھی مسلمان ہی ہیں۔ سندھ میں وقتاً فوقتاً جماعت کے اکابرین کو شہید کی گیا ان میں کئیمعروف اور مقبول ڈاکٹرز بھی شامل ہیں ۔ جن کی خدمات سے ایک دنیا مستفید ہو رہی تھی۔ اس کا اظہار قومی اخبارات میں بھی کیا گیا۔ لاہور میں دو مساجد میں دہشت گردی کی کاروائی کے ذریعہ 82 بے گناہوں کو شہید کر دیا گیا۔ ان سب شہادتوں کو کسی حکومتی ایجنسی نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ نہ کوئی تفتیش کی گئی اور نہ کسی کو گرفتار کیا گیا اور نہ سزا دی گئی۔ اور نہ کسی حکومتی رہنما کو اس سلسلے میں کوئی مذمتی بیان تک دینے کی توفیق ہوئی۔ بلکہ بعض ذرائع کے مطابق حکومت کی طرف سے ایسے عناصر کی در پردہ مدد اور حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔
اب بتائیے جب ساری قوم اپنے سیاسی اور مذہبی راہنماؤں کے پیچھے لگ کر ایک قانون پسند۔ پُر امن۔ محب وطن اور کسی بھی قسم کی ملک دشمن سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے والی جماعت کے خلاف اس قسم کی متشددانہ کاروائیاں کرے گی اور اسے بزعم خود اسلام کی عظیم خدمت قرار دے گی تو کیا خدائے عزوجل کی غیرت جوش میں نہیں آئے گی اس کا غضب اس قوم پر نہیں بھڑکے گا جس نے اس کے نام لیواؤں کی جماعت کے لئے اس سر زمین کو جہنم بنا دیا ہے۔


حقیقت یہی ہے اور یہی اس قوم کا گناہ ہے جس کی سزا یہ قوم بھگت رہی ہے اور یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک یہ قوم جماعت احمدیہ کے خلاف کی جانے والی ان زیادتیوں پر نادم اور شرمندہ ہو کر ان سے تائب نہیں ہو جاتی۔ لیکن پھر بھی ہم اس قوم کے لئے ہر دم دعا گو ہیں اور امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح بار بار تمام دنیا میں بسنے والے احمدیوں کو پاکستان کے لئے دعاؤں کی تحریک کرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے اور اس کی رحمت بہت وسیع ہے کچھ بعید نہیں کہ وہ اپنے بندوں کی دعاؤں کو سن لے اور ان کی خاطر اس قوم کی حالت بدل دے۔ ورنہ تو اس کی سنت یہی ہے جو اس نے قرآن میں بیان کر رکھی ہے کہ اللہ کبھی بھی اس قوم کی حالت کو نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی اندرونی حالت کو نہ بدلے۔(سورۃ الرعد آیت ۱۱)

آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو سزا دینا چاہتا ہے تو اس پر ظالم اور جابر حکمران مسلط کر دیتا ہے۔ کیا آپ سب کو یہ نظر نہیں آ رہا کہ گزشتہ چارسالوں سے جمہوریت کے نام پر سیاست دانوں کا جو ٹولہ ملک پر مسلط ہے اس نے تمام قوم کا جینا اجیرن کر دیا ہے۔ ابھی بھی آپ خواب خرگوش میں مبتلا رہیں اور سوچنے کی کوشش نہ کریں تو آپ کی مرضی۔
جیسا کہ میں اوپر عرض کر چکا ہوں کہ امام جماعت احمدیہ مسلسل اپنے خطابات میں تما م دنیا میں موجود احمدیوں کو خاص طور پرپالستان کے لئے دعائیں کرنے کی تحریک کر رہے ہیں۔ ہمارا یقین ہے اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو شرف قبولیت بخشتا ہے۔ وہ ضرور ہماری یہ دعائیں بھی سنے گا اور وطن عزیز پر تاریک اور ادبار کا جو دور آیا ہوا ہے وہ ضرور اپنے انجام کو پہنچے گا اور ہمارا پیارا ملک ایک بار پھر روشن اور منور ہو جائے گا۔اے میرے قادرو توانا خدا! تو ایسا ہی کر۔ آمین۔

Advertisements
  1. No comments yet.
  1. No trackbacks yet.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: